بیماریوں سے لیس برائلر مرغیاں اور فاسد فتاویٰ

بیماریوں سے لیس برائلر مرغیاں اور فاسد فتاویٰ

از - مجلس العلماء جنوبی افریقہ (ترجمہ)

 

سوال
برائے مہربانی ان دو اردو فتوؤں کو جانچیں جو ہم آپ کو بھیج رہے ہیں۔ ان فتوؤں کے مطابق 'فارمی' (برائلر) مرغیوں کو کھانا حلال ہے، چاہے ان کو کوئی بھی حرام خوراک کیوں نہ دی (کھلائی) گئی ہو۔ ان فتووں کی کیا حیثیت ہے..؟ کیا یہ (فتاویٰ) از روئے شریعت درست ہیں..؟

 

جواب
مصنوعی/برائلر/انکیوبیٹڈ (مصنوعی حرارت سے پیدا کی گئیں) مرغیوں کے استعمال سے متعلق مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اگر یہ مرغیاں صحیح طریقے سے (بمطابق شریعت) ذبح کی جائیں تو وہ حلال ہیں یا حرام۔ مسئلہ یہ ہے کہ حرام خوراک کھلائی گئی بیماریوں سے لیس کیا یہ مرغیاں طیب، مفیدِ صحت اور کھانے کے لئے اچھی (طاہر) ہیں یا  نہیں..؟ کیا یہ لوگوں کی صحت کے لئے اچھی ہیں یا بری..؟ اصل سوال یہ ہے ۔


مدارس کی طرف سے جاری کردہ مباح فتاویٰ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مفتیانِ کرام حقیقت سے بے خبر (ناواقف) ہیں۔ مفتی کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ مدرسے کے استاذ جس طرح طلبہ کو تعلیمی نکات (فقہی مباحث) سمجھاتے ہیں، اس طرح کا رویہ اختیار کریں۔ مفتیوں نے اپنے  فتوؤں میں جو کچھ بھی کہا ہے وہ عوام الناس میں پھیلانے کے لیے نہیں ہے (یعنی ان اقوال کو ادبا و احتراماً درسی کتابوں میں دفن رکھنا چاہئے)۔ مفتیوں کو عوام کی جسمانی  اور روحانی بہتری  (خوشحالی/خیریت) کا خیال رکھنا چاہئے۔

 

برائلر ('فارمی') مرغیوں کے بارے میں، مفتیانِ کرام یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ حرمت کا ایک وجہ (سبب) ضرر (نقصان) ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جس مرغی کو حرام خوراک کھلائی جائے وہ حرام ہے چاہے اسے صحیح (شرعی) طریقے سے ہی ذبح کیوں

نہ کیا جائے۔ مسئلہ ضرر کا ہے - جس کی تصدیق ہزاروں کفار ماہرین کر چکے ہیں۔

 

یہ برائلر مرغیاں متعدد امراض کا باعث بنتی ہیں جن میں کینسر، دل کے بیماریاں، جگر کے بیماریاں وغیرہ شامل ہیں۔ اس موضوع پر ہم نے کافی تحریریں (مضامین/کتابچے) شایع کی ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان میں دارالعلوم کے مفتیانِ کرام خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ وہ حقیقت سے ناواقف ہیں، اس لئے وہ فضول (غثاء) فتوے جاری کرتے ہیں، جس سے عوام کو جسمانی اور روحانی طور پر مزید نقصان ہی پہنچتا ہے۔

 

آج کے مفتیانِ کرام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انسان کے جسم کو جسمانی (ظاہری) نقصان کے ساتھ ساتھ روحانی (باطنی) نقصان بھی ہوتا ہے۔ جسم اور روح دونوں جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ روحانی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں۔ مفتی کا کام بندہ اور اس کے خالق کے درمیان رشتے کو مضبوط کرنا ہے۔ مفتیانِ کرام کا کام فقہی باریکیوں(مباحث) سے عوام کے عزم و ایمان کو کمزور کرنا نہیں ہے۔

 

مثلاً سب جانتے ہیں کہ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک ہوتا ہے۔ ایک مفتی کے لئے عوام کو یہ نصیحت کرنا درحقیقت حماقت (بیوقوفی) ہو گی کہ چونکہ نماز صرف ستر ڈھانپنے کے ساتھ درست ہے، اس لئے وہ اپنے پورے جسم کو برہنہ (کھلا رکھ) کر کے صرف ستر ڈھانپ (چھپا) کر مسجد میں جا سکتے ہیں۔ پس امام صاحب اور مقتدی شدید گرمی کے دن اس نیم برہنہ حالت میں نماز پڑھ سکتے ہیں کیونکہ ستر ڈھانپا گیا ہے۔ درحقیقت یہ اس دور کے مفتیانِ کرام کا رویہ ہے۔ ان میں بصیرت کی کمی ہے اور ان کے پاس نفسانی ایجنڈے (مفادات)  ہیں۔

 

اسی وجہ سے انہی مفتیوں نے ملحدین (دہریوں) کے حرام کووڈ (کورونا) پروٹوکول (ضوابط) کو جائز قرار دیا اور مساجد کو بھی بند کر دیا۔ ملحدین کو مطمئن کرنے کے لئے ان مفتیوں نے 'لا عدوی' حدیث میں باطل تاویلات کے ذریعے کلام کیا۔

 

ان مفتیوں کی فقہی مباحث (عبارتوں) سے انکار نہیں ہے۔ بحث یہ ہے کہ یہ مرغیاں بیماریوں سے لیس اور انسانوں میں بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ ضررِ بیماری، اس موضوع پر بیشمار حکماء (ماہرین) کے شواہد و اقوال سے یہ بات ثابت ہے۔

پہلے فتویٰ میں درج ہے،’’اور اگر کوئی اپنے طور پر فارمی مرغیاں کھانے سے گریز کرے تو اس کی مرضی، باقی فتویٰ حلت اور جواز ہی کا ہے۔‘‘

مذکورہ بالا فتویٰ میں مفتی صاحب نے بکواس بکی (اُگلی) ہے۔ یہ مرغیاں انتہائی مضر ہیں اس لئے فتویٰ حرمت پر ہے۔ یہاں پر مفتی صاحب سببِ حرمت جو کہ ضرر ہے، اس سے ناواقف نظر آتے ہیں، اس لئے ان کا یہ فتویٰ غلط ہے۔‌

 

دوسرے فتویٰ میں مذکور ہے،"محض لوگوں کی قیاس آرائیوں کی بنا پر کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی مرغی کھانے سے ایمان جاتاہے۔"

 

کبھی کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان بیماریوں سے لیس مرغیوں کو کھانے والا کافر ہو جاتا ہے۔ مفتی صاحب نے اس تبصرے میں ردی بات کہی ہے۔ ان مفتی صاحب نے اپنے دماغ کے استعمال کے بغیر اور جہالت کی بنیاد پر یہ بات کہی ہے۔ ان کی لاعلمی نے انہیں یہ اندازہ لگانے پر مجبور کر دیا کہ ان مرغیوں کو کھانے سے منع کرنے والوں نے اپنے معاملے کو 'قیاس' (بے بنیاد رائے) کی بنیاد پر مبنی کیا ہے۔ مفتی صاحب کے لئے یہ سمجھنا خوش آئند ہو گا کہ یہ دعویٰ جو انہوں نے کیا ہے، درحقیقت بے بنیاد قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے محض اپنی بے بنیاد قیاس آرائیوں کی بنا پر بکواس بکی ہے۔ انہوں نے بغیر دلیل کے خود کو بے وقوف (احمق) ثابت کر دیا ہے۔

 

حرمت (ممانعت) کا فتوی 'قیاس' پر مبنی نہیں جیسا کہ مفتی صاحب احمقانہ طور پر دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ ناقابل تردید حقائق پر مبنی ہے – ایسے شواہد (ثبوتوں) پر جن کی تردید عقلی اور عملی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ اگر ان مفتیوں کو حق کی کوئی عظمت و فکر ہے تو وہ برائلر چکن کی حرام، شیطانی انڈسٹری (صنعت/کارخانہ) کے بارے میں گہرائی سے تحقیق (وسیع مطالعہ) کر لیں۔ پھر اگر وہ مخلص ہیں تو یہ سمجھنے سے قاصر نہیں ہونگے کہ ضرر سببِ حرمت (عامل ممانعت)، روز روشن کی طرح سب پر عیاں (واضح) ہے۔

فتوی نمبر دو میں مفتی صاحب اپنے آخری بیان میں فرماتے ہیں،"رہا اس کا مضرِ صحت ہونا تو اطباء ہی اس کابہتر جواب دے سکتے ہیں۔"

اس بیان سے مفتی صاحب کی اس موضوع پر کھلی اور حیران کن لاعلمی (نہ واقفیت/جہالت) ثابت ہوتی ہے۔ مفتی کے لئے اپنی جہالت کی بنیاد پر فتویٰ دینا حرام ہے۔ جہالت کی بنیاد پر فتوے بُننے والے مفتی، عوام کے ایمان اور صحت دونوں کے لئے خطرہ ہیں۔ ایسے مفتی پر مفتی ماجن (مکار مفتی) کا لیبل (ٹھپہ) لگا دیا جاتا ہے۔ ان کو فتویٰ جاری کرنے کے لئے شرعاً لائسنس (اجازت) نہیں ہے، چاہے وہ مفتیانِ کرام دیوبند کے دارالافتاء میں ہوں یا مظاہر العلوم کے۔

 

ڈاکٹروں اور ماہرین کے ذریعہ شائع کردہ محققانہ لٹریچر (تحریرات/تحقیقات/انکشافات) کا ایک سیلاب موجود ہے، جنہوں نے گہرائی سے تحقیق کی ہے اور جن کو اس شیطانی برائلر چکن انڈسٹری ( فارمی مرغی صنعت/کارخانہ) کا عملی تجربہ ہے۔ یہ لٹریچر (تحریرات/تحقیقات/انکشافات) کا سیلاب ان مفتیوں کو غرق کرنے کے لئے کافی ہے جو زہریلے مرغیوں کے لئے بے بنیاد جواز کے فتوے دیتے ہیں، جو کہ بیشمار بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔

 

کیا مفتی صاحب مخلص ہیں یا ان کے پاس کوئی تجارتی اور نفسانی ایجنڈا (ذاتی مفاد) ہے..؟ جو مرغیاں عوام کی صحت کو خراب (نقصان) کرتی ہیں، کیا وہ ان زہریلے، بیماریوں سے لیس مرغیوں کے ضرر کو ثابت کرنے والے بیشمار ثبوتوں سے بے خبر (ناواقف) ہیں..؟

 

ان مفتی ماجن  کے جاری کردہ حلت (جواز) کے فتاوے اس ہی حقارت کے ساتھ رد کئے جائیں گے جس کے وہ مستحق ہیں۔

 

برائلر مرغیاں کھانا حرام ہے - جس کی بنیاد ان مصنوعی مرغیوں کے سو فیصد ثابت شدہ نقصان اور بیماریوں کا سبب بننا ہے۔ جو کہ پیدائش کے شروع دن سے آخری دم تک اپنے مختصر ہولناک/دردناک وقفے حیات میں بربریت کا شکار ہوتی ہیں۔


١٧ شوال ١٤٤٣ - ١٩ مئی ٢٠٢٢